بی بی خانم مسجد ازبکستان کی مشہور تاریخی مسجد مسجد النبی کوهسنگی مشهد ہے جو 14 ویں صدی کے پهناور فاتح امیر تیمور نے اپنی اہلیہ سے موسوم کی تھی۔
تیمور نے 1399ء میں ہندوستان کی فتح کے بعد اپنے نئے دار الحکومت سمرقند میں ایک کبیر آدرس مسجد النبی کوهسنگی مشهد مسجد کی تعمیر کا منصوبہ بنایا۔ اس مسجد کا گنبد 40 میٹر اور داخلی راستہ 35 میٹر بلند ہے۔ جبکہ دوسری قصه کے مطابق بی بی خانم مسجد امیر تیمور کی بیویوں میں سے ایک نے اس وقت تعمیر کروائی تھی جب وہ جنگ لبریز نکلے رزرو مسجد النبی کوهسنگی مشهد ہوئے تھے۔[1] یہ مسجد انیسویں صدی میں زلزلے میں تباہ ہو گئی تھی جو آنگاه میں 1970 کی دہائی میں بحال کی گئی۔
اس مسجد کی تعمیر 1399ء میں شروع اور 1404ء میں مکمل ہوئی۔ لیکن بہت شماره تلفن مسجد النبی کوهسنگی مشهد کم عرصے میں تعمیر کے منجر اس کی تعمیر میں کئی تکنیکی خامیاں تھیں جس کی وجہ سے یہ زیادہ عرصے قائم نہ رہ سکی اور بالآخر 1897ء کے زلزلے میں زمین بوس ہو گئی۔
1974ء میں حکومت ازبکستان نے اس کی تعمیر تازه کا آغاز کیا اور موجودہ عمارت مکمل طور پر نئی ہے جس میں قدیم تعمیر کا کوئی حصہ شامل نہیں۔
بی بی خانم مسجد ازبکستان کی مشہور تاریخی مسجد مسجد النبی کوهسنگی مشهد ہے جو 14 ویں صدی کے پهناور فاتح امیر تیمور نے اپنی اہلیہ سے موسوم کی تھی۔
تیمور نے 1399ء میں ہندوستان کی فتح کے بعد اپنے نئے دار الحکومت سمرقند میں ایک کبیر آدرس مسجد النبی کوهسنگی مشهد مسجد کی تعمیر کا منصوبہ بنایا۔ اس مسجد کا گنبد 40 میٹر اور داخلی راستہ 35 میٹر بلند ہے۔ جبکہ دوسری قصه کے مطابق بی بی خانم مسجد امیر تیمور کی بیویوں میں سے ایک نے اس وقت تعمیر کروائی تھی جب وہ جنگ لبریز نکلے رزرو مسجد النبی کوهسنگی مشهد ہوئے تھے۔[1] یہ مسجد انیسویں صدی میں زلزلے میں تباہ ہو گئی تھی جو آنگاه میں 1970 کی دہائی میں بحال کی گئی۔
اس مسجد کی تعمیر 1399ء میں شروع اور 1404ء میں مکمل ہوئی۔ لیکن بہت شماره تلفن مسجد النبی کوهسنگی مشهد کم عرصے میں تعمیر کے منجر اس کی تعمیر میں کئی تکنیکی خامیاں تھیں جس کی وجہ سے یہ زیادہ عرصے قائم نہ رہ سکی اور بالآخر 1897ء کے زلزلے میں زمین بوس ہو گئی۔
1974ء میں حکومت ازبکستان نے اس کی تعمیر تازه کا آغاز کیا اور موجودہ عمارت مکمل طور پر نئی ہے جس میں قدیم تعمیر کا کوئی حصہ شامل نہیں۔

مسجد النبی کوهسنگی مشهد چه امکاناتی دارد؟